بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: پیشاب اور پاخانے میں قبلہ کی طرف منہ کرنا منع ہے۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل باب: پیشاب اور پاخانے میں قبلہ کی طرف منہ کرنا منع ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 317 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيَّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّه سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيَّ ، يَقُولُ: أَنَا أَوَّلُ مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ"، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ حَدَّثَ النَّاسَ بِذَلِك.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں پہلا شخص ہوں جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: کوئی شخص قبلہ رو ہو کر ہرگز پیشاب نہ کرے اور میں سب سے پہلا شخص ہوں جس نے لوگوں سے یہ حدیث بیان کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 317]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5236، ومصباح الزجاجة: 127)، مسند احمد (4/190، 191) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 318 سنن ابن ماجہ
أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الَّذِي يَذْهَبُ إِلَى الْغَائِطِ الْقِبْلَةَ"، وَقَالَ:" شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا، اور فرمایا: مشرق (پورب) کی طرف منہ کرو، یا پچھم کی طرف ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 318]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الوضوء 11 (144)، الصلاة 29 (394)، صحیح مسلم/الطہارة 17 (264)، سنن ابی داود/الطہارة 4 (9)، سنن الترمذی/الطہارة 6 (8)، سنن النسائی/الطہارة 20 (21)، 21 (22)، (تحفة الأشراف: 3478)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القبلة 1 (1)، مسند احمد (5/416، 417، 421)، سنن الدارمی/الطہارة 6 (691) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فرمان اہل مدینہ یا ان لوگوں کے لئے تھا، جن کا قبلہ اتر یا دکھن کو تھا، مسلمان کو قبلہ رخ ہو کر قضائے حاجت کے لئے نہ بیٹھنا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 319 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الْمَازِنِيُّ ، أَبِي زَيْدٍ ، مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقِلٍ الْأَسَدِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الْمَازِنِيُّ ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ مَوْلَى الثَّعْلَبِيِّينَ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقِلٍ الْأَسَدِيِّ ، وَقَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَتَيْنِ بِغَائِطٍ أَوْ بِبَوْلٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
معقل بن ابومعقل اسدی رضی اللہ عنہ (جن کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں پیشاب اور پاخانے کے وقت دونوں قبلوں (مسجد الحرام اور بیت المقدس) کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 319]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الطہارة 4 (10)، (تحفة الأشراف: 11463)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/210) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (حدیث کی سند میں مذکور راوی ''أبو زید'' مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (10)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 387
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 320 سنن ابن ماجہ
الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ ، مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، أَنَّهُ شَهِدَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ،" نَهَى أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ أَوْ بِبَوْلٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبلہ رو ہو کر پاخانہ اور پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 320]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3984، ومصباح الزجاجة: 128)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/ 12، 15) (صحیح)» ‏‏‏‏ (حدیث کی سند میں ابن لہیعہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 10)
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
-
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 321 سنن ابن ماجہ
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ، وَحَدَّثَنَاهُ عُمَيْرُ بْنُ مِرْدَاسٍ الدَّوْنَقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو يَحْيَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَانِي أَنْ أَشْرَبَ قَائِمًا، وَأَنْ أَبُولَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ" 27.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کھڑے ہو کر پانی پینے سے، اور قبلہ رو ہو کر پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 321]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3984، ومصباح الزجاجة: 129) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں ابن لہیعہ مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ کی ہے، لیکن شواہد کی نباء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 10)
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
عبد اللّٰه بن لھيعة مدلس،ضعيف بعد اختلاطه وعنعن
أبو الزبير عنعن و في السند إليھما نظر
و الحديث السابق (الأصل: 318) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 387
الحكم: صحيح