أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الَّذِي يَذْهَبُ إِلَى الْغَائِطِ الْقِبْلَةَ"، وَقَالَ:" شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا، اور فرمایا: ”مشرق (پورب) کی طرف منہ کرو، یا پچھم کی طرف“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 318]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الوضوء 11 (144)، الصلاة 29 (394)، صحیح مسلم/الطہارة 17 (264)، سنن ابی داود/الطہارة 4 (9)، سنن الترمذی/الطہارة 6 (8)، سنن النسائی/الطہارة 20 (21)، 21 (22)، (تحفة الأشراف: 3478)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القبلة 1 (1)، مسند احمد (5/416، 417، 421)، سنن الدارمی/الطہارة 6 (691) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فرمان اہل مدینہ یا ان لوگوں کے لئے تھا، جن کا قبلہ اتر یا دکھن کو تھا، مسلمان کو قبلہ رخ ہو کر قضائے حاجت کے لئے نہ بیٹھنا چاہئے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح