مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجْلِ يَدْنُو مِنِ امْرَأَتِهِ فَلَا يُنْزِلُ؟ قَالَ:" إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ، يَعْنِي لِيَغْسِلْهُ وَيَتَوَضَّأْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس شخص کے متعلق سوال کیا جو اپنی بیوی سے قریب ہوتا ہے، اور اسے انزال نہیں ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جب ایسا ہو تو آدمی اپنی شرمگاہ پر پانی ڈال لے یعنی اسے دھو لے، اور وضو کر لے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 505]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الطہارة 83 (207)، سنن النسائی/الطہارة 112 (156)، (تحفة الأشراف: 11544)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة 13 (53)، مسند احمد (1/124، 6/4، 5) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اگر قربت سے انزال نہ ہو تب بھی اس کو بہر حال غسل کرنا ہو گا، مقداد کی یہ حدیث منسوخ ہے: «إذا التقى الختان» سے، یعنی جب دو ختنے باہم مل جائیں تو غسل واجب ہے، انزال ہو یا نہ ہو۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (207) نسائي (156،441)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 396
الحكم: صحيح