أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، هُشَيْمٌ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ:" سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَذْيِ؟، فَقَالَ:" فِيهِ الْوُضُوءُ، وَفِي الْمَنِيِّ الْغُسْلُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مذی ۱؎ کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”اس میں وضو ہے، اور منی ۲؎ میں غسل ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 504]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الطہارة 83 (114)، (تحفة الأشراف: 10225)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل 13 (269)، سنن ابی داود/الطہارة 83 (207)، سنن النسائی/الطہارة 112 (157)، الغسل 28 (436)، مسند احمد (1/82، 108، 110) (صحیح) (ملاحظہ ہو: الإرواء: 47، 125)»
وضاحت
۱؎: مذی: وہ لیس دار پتلا پانی ہے، جو ابتداء شہوت میں مرد کے عضو تناسل سے بغیر اچھلے نکلتا ہے اور جس پر وضو ہے۔ ۲؎: منی سے مراد وہ رطوبت ہے، جو شہوت کے وقت عضو تناسل سے اچھل کر نکلتی ہے، جس پر غسل واجب ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (114)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 396
الحكم: صحيح