أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتِفًا، ثُمَّ مَسَحَ يَدَيْهِ بِمِسْحٍ كَانَ تَحْتَهُ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بکری کے دست کا گوشت کھایا، پھر نیچے بچھے ہوئے چمڑے میں اپنا ہاتھ پونچھا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے، اور نماز پڑھائی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 488]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الطہارة 75 (189)، (تحفة الأشراف: 6110، ومصباح الزجاجة: 201)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأطعمة 18 (5404)، صحیح مسلم/الحیض 24 (354)، سنن النسائی/الطہارة 123 (182)، موطا امام مالک/الطہارة 5 (19)، مسند احمد (1/326) (صحیح)» (سند میں سماک بن حرب ہیں، جن کی عکرمہ سے راویت میں اضطراب ہے، لیکن دوسرے طرق کی وجہ سے یہ صحیح ہے، اس لئے کہ مسند احمد میں سفیان نے سماک کی متابعت کی ہے، ایسے ہی ایوب نے بھی متابعت کی ہے (مسند احمد 1/273) نیز زہیر نے بھی سماک کی متابعت کی ہے، (1/267) نیز حدیث کے دوسرے طرق ہیں، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 182- 184)۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (189)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 395
الحكم: صحيح