بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 487 — باب: آگ میں پکی ہوئی چیزوں کے استعمال سے وضو کا بیان۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل باب: آگ میں پکی ہوئی چیزوں کے استعمال سے وضو کا بیان۔ حدیث 487
هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْرَقُ ، خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ ، أَبِيهِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْرَقُ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ يَضَعُ يَدَيْهِ عَلَى أُذُنَيْهِ وَيَقُولُ: صُمَّتَا إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کانوں پر رکھتے اور کہتے: یہ دونوں کان بہرے ہو جائیں اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہو: تم ہر اس چیز کے استعمال سے وضو کرو جسے آگ پر پکایا گیا ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 487]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1702) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں خالد بن یزید ضعیف راوی ہے، جس کو ابن معین نے متہم بھی کہا ہے، لیکن اصل حدیث صحیح ہے، کما تقدم اور یہ واضح رہے کہ باب کی احادیث منسوخ ہیں، جیسا کہ آگے آئے گا)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
خالد بن يزيد بن أبي مالك: ضعيف (تقريب: 1688)
وقال الھيثمي: وضعفه الجمھور
وقال البوصيري: ’’ ولم ينفرد به‘‘ أي بھذا الحديث!
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 395
الحكم: ضعيف
← پچھلی حدیث (486) باب پر واپس اگلی حدیث (488) →