أَبُو بَكْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، الْأَجْلَحِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، أَبِي الْأَسْوَدِ الدَّيْلَمِيِّ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ , عَنْ الْأَجْلَحِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ , عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدَّيْلَمِيِّ , عَنْ أَبِي ذَرٍّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَحْسَنَ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّيْبَ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”بالوں کی سفیدی بدلنے کے لیے سب سے بہترین چیز مہندی اور کتم ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3622]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الترجل 18 (4205)، سنن الترمذی/اللباس20 (1753)، سنن النسائی/الزینة 16 (5081، 5082)، (تحفة الأشراف: 11927، 18882)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/147، 150، 154، 156، 169) (صحیح)»
وضاحت
۱ ؎: «كَتَمُ» : ایک پودا ہے جس کی جڑ سے خضاب بنایا جاتا ہے، نیز اس کو جوش دے کر روشنائی تیار کی جاتی ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح