عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ ، أَبِي ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ ، أَبِيهِ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ , حَدَّثَنَا أَبِي , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ , قَالَ: أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنَبٌ مِنْ الطَّائِفِ فَدَعَانِي , فَقَالَ:" خُذْ هَذَا الْعُنْقُودَ , فَأَبْلِغْهُ أُمَّكَ" , فَأَكَلْتُهُ قَبْلَ أَنْ أُبْلِغَهُ إِيَّاهَا , فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ لَيَالٍ , قَالَ لِي:" مَا فَعَلَ الْعُنْقُودُ؟ هَلْ أَبْلَغْتَهُ أُمَّكَ؟" , قُلْتُ: لَا , فَسَمَّانِي غُدَرَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس طائف سے انگور ہدیہ میں آئے، آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا: ”یہ خوشہ لو اور اپنی ماں کو پہنچا دو“، میں نے وہ خوشہ ماں تک پہنچانے سے پہلے ہی کھا لیا، جب چند روز ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”خوشے کا کیا ہوا؟ کیا تم نے اسے اپنی ماں کو دیا“؟ میں نے عرض کیا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرا نام (محبت و مزاح سے) ”دغا باز“ رکھ دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3368]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11633، ومصباح الزجاجة: 1166) (ضعیف)» (اس کی سند میں عبدالرحمن بن عرق مقبول راوی ہیں، جن کا کوئی متابع نہیں اس لئے وہ لین الحدیث ہیں، اور اس کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے)
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
عبد الرحمٰن بن عرق:مجهول (التحرير: 3951) لم يوثقه غير ابن حبان
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 498
الحكم: ضعيف