أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ , وَعِنْدَهُ هَذَا الدُّبَّاءُ، فَقُلْتُ: أَيُّ شَيْءٍ هَذَا؟ قَالَ:" هَذَا الْقَرْعُ، هُوَ الدُّبَّاءُ نُكْثِرُ بِهِ طَعَامَنَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر (جابر بن طارق) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آپ کے گھر گیا، آپ کے پاس یہ کدو رکھا ہوا تھا تو میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ «قرع» یعنی کدو ہے، ہم اس سے اپنے کھانے زیادہ کرتے ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3304]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2211، ومصباح الزجاجة: 1135)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/153، 177، 206) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: سالن بڑھاتے ہیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
شمائل الترمذي(160)
إسماعيل بن أبي خالد عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 494
الحكم: صحيح