بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 3303 — باب: کدو کا بیان۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: کھانوں کے متعلق احکام و مسائل باب: کدو کا بیان۔ حدیث 3303
حدیث نمبر: 3303 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" بَعَثَتْ مَعِي أُمُّ سُلَيْمٍ بِمِكْتَلٍ فِيهِ رُطَبٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمْ أَجِدْهُ , وَخَرَجَ قَرِيبًا إِلَى مَوْلًى لَهُ دَعَاهُ، فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا , فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَأْكُلُ، قَالَ:" فَدَعَانِي لِآكُلَ مَعَهُ، قَالَ: وَصَنَعَ ثَرِيدَةً بِلَحْمٍ، وَقَرْعٍ، قَالَ: فَإِذَا هُوَ يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَجْمَعُهُ فَأُدْنِيهِ مِنْهُ، فَلَمَّا طَعِمْنَا مِنْهُ، رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ، وَوَضَعْتُ الْمِكْتَلَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ وَيَقْسِمُ , حَتَّى فَرَغَ مِنْ آخِرِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک ٹوکرا بھیجا، جس میں تازہ کھجور تھے، میں نے آپ کو نہیں پایا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ایک غلام کے پاس قریب میں تشریف لے گئے تھے، اس نے آپ کو دعوت دی تھی، اور آپ کے لیے کھانا تیار کیا تھا، آپ کھا رہے تھے کہ میں بھی جا پہنچا تو آپ نے مجھے بھی اپنے ساتھ کھانے کے لیے بلایا، (غلام نے) گوشت اور کدو کا ثرید تیار کیا تھا، میں دیکھ رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کدو بہت اچھا لگ رہا ہے، تو میں اس کو اکٹھا کر کے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف بڑھانے لگا، پھر جب ہم اس میں سے کھا چکے، تو آپ اپنے گھر واپس تشریف لائے، میں نے (تازہ کھجور کا) ٹوکرا آپ کے سامنے رکھ دیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھانے لگے اور آپ تقسیم بھی کرتے جاتے تھے، یہاں تک کہ اسے بالکل ختم کر دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3303]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 759، ومصباح الزجاجة: 1134) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (3302) باب پر واپس اگلی حدیث (3304) →