بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانُ ، مُحَمَّدُ بْنُ طَارِقٍ ، طَاوُسٍ ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَارِقٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ طَوَافَ الزِّيَارَةِ إِلَى اللَّيْلِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے طواف زیارت میں رات تک تاخیر فرمائی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3059]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«حدیث ابن عباس أخرجہ: صحیح البخاری/ الحج 129 (1732 تعلیقاً)، سنن ابی داود/المناسک 82 (2000)، سنن الترمذی/الحج 80 (920)، (تحفة الأشراف: 6452، 17594)، حدیث عائشہ تقدم تخریجہ في حدیث ابن عباس، وحدیث طاوس تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18845، ومصباح الزجاجة: 1062)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/288) (شاذ)» (اس حدیث کی سند میں ابو الزبیر مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، ترمذی اور منذری نے اس حدیث کی تحسین کی ہے، اور ابن القیم نے اس کو وہم کہا ہے، اور البانی صاحب نے شاذ کا حکم لگایا ہے، اس لیے کہ صحیح ترین احادیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے طواف زیارہ (افاضہ) زوال کے بعد کیا تھا، ملاحظہ ہو: الإرواء: 4/ 364 - 365 و ضعیف أبی داود: 342)
وضاحت
۱؎: دسویں تاریخ کے طواف کو طواف زیارت یا طواف افاضہ کہتے ہیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2000) ترمذي (920)
محمد بن طارق عن طاوس مرسل (تحفة الأشراف 13 / 239) وحديث أبي الزبير مسند لكنه عنعن (انظر الحديث السابق: 92) وعلقه البخاري في صحيحه (قبل: 1732)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 486
الحكم: شاذ