هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، هِشَامُ بْنُ الْغَازِ ، نَافِعًا ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا ، يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ يَوْمَ النَّحْرِ بَيْنَ الْجَمَرَاتِ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي حَجَّ فِيهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟"، قَالُوا: يَوْمُ النَّحْرِ، قَالَ:" فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟"، قَالُوا: هَذَا بَلَدُ اللَّهِ الْحَرَامُ، قَالَ:" فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟"، قَالُوا: شَهْرُ اللَّهِ الْحَرَامُ، قَالَ:" هَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ وَدِمَاؤُكُمْ وَأَمْوَالُكُمْ وَأَعْرَاضُكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ هَذَا الْبَلَدِ، فِي هَذَا الشَّهْرِ، فِي هَذَا الْيَوْمِ"، ثُمَّ قَالَ:" هَلْ بَلَّغْتُ؟"، قَالُوا: نَعَمْ، فَطَفِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ اشْهَدْ، ثُمَّ وَدَّعَ النَّاسَ"، فَقَالُوا: هَذِهِ حَجَّةُ الْوَدَاعِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جس سال حج کیا دسویں ذی الحجہ کو جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”آج کون سا دن ہے“؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ یوم النحر ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کون سا شہر ہے“؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ اللہ کا حرمت والا شہر ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کون سا مہینہ ہے“؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ اللہ کا حرمت والا مہینہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حج اکبر کا دن ہے، اور تمہارے خون، تمہارے مال، تمہاری عزت و آبرو اسی طرح تم پر حرام ہیں جیسے اس شہر کی حرمت اس مہینے اور اس دن میں ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں نے (اللہ کے احکام تم کو) پہنچا دئیے ہیں“؟ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، (آپ نے پہنچا دئیے) پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ فرمانے لگے: ”اے اللہ! تو گواہ رہ“، اس کے بعد لوگوں کو رخصت کیا، تو لوگوں نے کہا: یہ حجۃ الوداع یعنی الوداعی حج ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3058]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الحج 132 (1742 تعلیقاً)، سنن ابی داود/المناسک 67 (1945)، (تحفة الأشراف: 8514) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی آپ کا آخری حج ہے، اس کے بعد آپ ہمیں جدائی کا داغ دے جائیں گے، نیز اس حج کے تھوڑے دنوں کے بعد آپ کی وفات ہوئی اس واسطے اس کو حجۃ الوواع کہتے ہیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح