أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي الْحَكَمِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ مَوْلَى بَنِي لَيْثٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا سَبْقَ إِلَّا فِي خُفٍّ أَوْ حَافِرٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”مسابقت (آگے بڑھنے) کی شرط گھوڑے اور اونٹ کے علاوہ کسی میں جائز نہیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2878]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن النسائی/الخیل 13 (3615)، (تحفة الأشراف: 14877)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجہاد 67 (2574)، سنن الترمذی/الجہاد 22 (1700)، مسند احمد (2/256، 358، 425، 474) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: ترمذی اور ابوداود کی روایت میں «أو نصل» (یا تیر میں) زیادہ ہے،مطلب یہ ہے کہ ان تینوں میں آگے بڑھنے کی شرط لگانا اور جیتنے پر مال لینا جائز ہے، تیر میں یہ شرط ہے کہ کس کا دور جاتا ہے، علامہ طیبی کہتے ہیں کہ گدھے اور خچر بھی گھوڑے کی طرح ہیں، ان میں بھی شرط درست ہو گی، لیکن حدیث میں یہ تین چیزیں مذکور ہیں: «نصل» یعنی تیر، «خف» یعنی اونٹ، «حافر» یعنی گھوڑا، ایک شخص نے حدیث میں اپنی طرف سے یہ بڑھا دیا «أو جناح» یعنی پرندہ اڑانے میں شرط لگانا درست ہے جیسے کبوتر باز کیا کرتے ہیں اور یہ لفظ اس وقت روایت کیا جب ایک عباسی خلیفہ کبوتر بازی کر رہا تھا، یہ شخص خلیفہ کے پاس گیا اور اس کا دل خوش کرنے اور کبوتر بازی کو جائز کرنے کی خاطر حدیث میں یہ لفظ اپنی طرف سے بڑھا دیا اور اللہ کا خوف بالکل نہ کیا، اللہ تعالیٰ ائمہ حدیث کو جزائے خیر دے اگر وہ محنت کر کے صحیح حدیثوں کو جھوٹی اور ضعیف حدیثوں سے الگ نہ کرتے تو دین برباد ہو جاتا، حدیث سے یہ اہتمام اس امت سے خاص ہے، اگلی امتوں والے کتاب الہی کی بھی اچھی طرح حفاظت نہ کر سکے حدیث کا کیا ذکر «ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء والله ذو الفضل العظيم» (سورة الجمعة: 4)۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح