عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" ضَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَيْلَ، فَكَانَ يُرْسِلُ الَّتِي ضُمِّرَتْ مِنْ الْحَفْيَاءِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ، وَالَّتِي لَمْ تُضَمَّرْ مِنْ ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گھوڑوں کو پھرتیلا بنایا، آپ پھرتیلے چھریرے بدن والے گھوڑوں کو مقام حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک اور غیر پھرتیلے گھوڑوں کو ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک دوڑاتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2877]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الإمارة 25 (1870)، (تحفة الأشراف: 7956)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 41 (120)، الجہاد 56 (2868)، 57 (2869)، 58 (2870)، الاعتصام 16 (7336)، سنن ابی داود/الجہاد 67 (2575)، سنن الترمذی/الجہاد 22 (1699)، سنن النسائی/الخیل 12 (3614)، موطا امام مالک/ الجہاد 19 (45)، مسند احمد (2/5، 55، 56)، سنن الدارمی/الجہاد 36 (2473) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: «تضمیر» (پھرتیلا بنانا) یہ ہے کہ گھوڑے کو پہلے خوب کھلایا جائے یہاں تک کہ موٹا ہو جائے، پھر اس کا چار ہ آہستہ آہستہ کم کر دیا جائے، اور اسے ایک کوٹھری میں بند کر کے اس پر جھول ڈال دی جائے تاکہ گرم ہو اور اسے خوب پسینہ آ جائے، ایسا کرنے سے گھوڑا سبک اور تیز رفتار ہو جاتا ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح