أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَفْصُ بْنُ جُمَيْعٍ ، سِمَاكٌ ، عِكرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ جُمَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ عِكرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْلَمَتْ فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ، قَالَ: فَجَاءَ زَوْجُهَا الْأَوَّلُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَسْلَمْتُ مَعَهَا وَعَلِمَتْ بِإِسْلَامِي، قَالَ:" فَانْتَزَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا الْآخَرِ وَرَدَّهَا إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آ کر اسلام قبول کیا، اور اس سے ایک شخص نے نکاح کر لیا، پھر اس کا پہلا شوہر آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں اپنی عورت کے ساتھ ہی مسلمان ہوا تھا، اور اس کو میرا مسلمان ہونا معلوم تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس عورت کو دوسرے شوہر سے چھین کر پہلے شوہر کے حوالے کر دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 2008]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الطلاق 23 (2238، 2239)، سنن الترمذی/النکاح 42 (1144)، (تحفة الأشراف: 6107)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/232، 323) (ضعیف)» (سند میں حفص بن جمیع ضعیف راوی ہیں، اور سماک کی عکرمہ سے روایت میں اضطراب ہے)
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2238،2239) ترمذي (1144)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 450
الحكم: ضعيف