بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 2007 — باب: بچے کا حقدار بستر والا (شوہر) ہے اور پتھر کا مستحق زانی۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: نکاح کے احکام و مسائل باب: بچے کا حقدار بستر والا (شوہر) ہے اور پتھر کا مستحق زانی۔ حدیث 2007
حدیث نمبر: 2007 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ ، أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا: بچہ صاحب فراش کا ہے، اور زانی کے لیے پتھر ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 2007]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4885، ومصباح الزجاجة: 713) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں سابقہ شواہد سے یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس میں اسماعیل بن عیاش اور شرجیل بن مسلم کی وجہ سے کچھ کلام ہے)
وضاحت
۱؎: «وللعاهرالحجر» یعنی زانی کے لیے ناکامی و نامرادی ہے، بچے میں اس کا کوئی حق نہیں، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ «حجر» (پتھر) سے مراد یہ ہے کہ اسے سنگسار کیا جائے گا، مگر یہ قول کمزور و ضعیف ہے کیونکہ سنگسار صرف شادی شدہ زانی کو کیا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح لغيره
← پچھلی حدیث (2006) باب پر واپس اگلی حدیث (2008) →