أَبُو بَدْرٍ عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أُمِّ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَهُوَ عَرُوسٌ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ جِئْنَ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ، فَأَخْبَرْنَ عَنْهَا، قَالَتْ: فَتَنَكَّرْتُ وَتَنَقَّبْتُ، فَذَهَبْتُ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَيْنِي فَعَرَفَنِي، قَالَتْ: فَالْتَفَتَ، فَأَسْرَعْتُ الْمَشْيَ فَأَدْرَكَنِي فَاحْتَضَنَنِي، فَقَالَ:" كَيْفَ رَأَيْتِ؟"، قَالَتْ: قُلْتُ: أَرْسِلْ يَهُودِيَّةٌ وَسْطَ يَهُودِيَّاتٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (خیبر سے واپس) مدینہ آئے، اور صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے آپ دولہا ہوئے، تو انصار کی عورتیں آئیں، اور انہوں نے صفیہ رضی اللہ عنہا کا حال بیان کیا، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنی صورت بدلی، منہ پر نقاب ڈالا، اور صفیہ رضی اللہ عنہا کو دیکھنے چلی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری آنکھ دیکھ کر مجھے پہچان لیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دوسری طرف متوجہ ہوئے تو میں اور تیزی سے چلی، لیکن آپ نے مجھ کو پکڑ کر گود میں اٹھا لیا، اور پوچھا: ”تو نے کیسا دیکھا“؟ میں نے کہا: بس چھوڑ دیجئیے، یہودی عورتوں میں سے ایک یہودی عورت ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1980]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17822، ومصباح الزجاجة: 703) (ضعیف)» (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہے)
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
فيه علل منها ضعف علي بن زيد بن جدعان
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 450
الحكم: ضعيف