بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 1979 — باب: عورتوں سے اچھے سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا بیان۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: نکاح کے احکام و مسائل باب: عورتوں سے اچھے سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا بیان۔ حدیث 1979
حدیث نمبر: 1979 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" سَابَقَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَقْتُهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آگے نکل گئی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1979]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16927)، سنن ابی داود/الجہاد 68 (2578)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/182) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: دوسری روایت میں ہے کہ جب میرا بدن بھاری ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دوڑ میں مجھ سے آگے نکل گئے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! یہ پہلی دوڑ کا بدلہ ہے اس حدیث کے یہاں لانے کا مقصد یہ ہے کہ شوہر کی حسن معاشرت اپنی بیویوں کے ساتھ معلوم ہو باوجود یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سن مبارک زیادہ تھا، اور عائشہ رضی اللہ عنہا کم سن تھیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کو خوش کرنے کے لئے ان کے ساتھ ایسا کرتے اور دوڑنا مباح ہے کچھ برا کھیل نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (1978) باب پر واپس اگلی حدیث (1980) →