بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 1652 — باب: رویت ہلال (چاند دیکھنے) کی گواہی کا بیان۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: صیام کے احکام و مسائل باب: رویت ہلال (چاند دیکھنے) کی گواہی کا بیان۔ حدیث 1652
حدیث نمبر: 1652 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، أَبُو أُسَامَةَ ، زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيُّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَبْصَرْتُ الْهِلَالَ اللَّيْلَةَ، فَقَالَ:" أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" قُمْ يَا بِلَالُ فَأَذِّنْ فِي النَّاسِ أَنْ يَصُومُوا غَدًا"، قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: هَكَذَا رِوَايَةُ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، وَالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، فَلَمْ يَذْكُرْ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَقَالَ: فَنَادَى أَنْ يَقُومُوا، وَأَنْ يَصُومُوا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے کہا: رات میں نے چاند دیکھا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے رسول ہیں؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے بلال اٹھو، اور لوگوں میں اعلان کر دو کہ لوگ کل روزہ رکھیں۔ ابوعلی کہتے ہیں: ایسے ہی ولید بن ابی ثور اور حسن بن علی کی روایت ہے، اس کو حماد بن سلمہ نے روایت کیا ہے، اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا اور کہا: تو بلال رضی اللہ عنہ نے اعلان کیا کہ لوگ قیام اللیل کریں (یعنی صلاۃ تراویح پڑھیں) اور روزہ رکھیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1652]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابی داود/الصوم 14 (2340، 2341)، سنن الترمذی/الصوم 7 (691)، سنن النسائی/الصوم 6 (2115)، (تحفة الأشراف: 6104)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصوم 6 (1734) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں سماک ہیں جن کی عکرمہ سے روایت میں اضطراب ہے)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2340) ترمذي (691)نسائي (2114)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 439
الحكم: ضعيف
← پچھلی حدیث (1651) باب پر واپس اگلی حدیث (1653) →