أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ . ح وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ النِّصْفُ مِنْ شَعْبَانَ فَلَا صَوْمَ حَتَّى يَجِيءَ رَمَضَانُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جب نصف شعبان ہو جائے، تو روزے نہ رکھو، جب تک کہ رمضان نہ آ جائے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1651]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الصوم 12 (2337)، سنن الترمذی/الصوم 38 (738)، (تحفة الأشراف: 14051، 14095)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصوم 34 (1781) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہ بات عام امت کے لئے ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں آتا ہے کہ آپ شعبان کے روزوں کو رمضان سے ملا دیا کرتے تھے کیونکہ آپ کو روحانی قوت حاصل تھی اس لئے روزہ آپ کے لئے کمزوری کا سبب نہیں بنتا تھا، لیکن امت کے لئے حکم یہ ہے کہ وہ نصف ثانی میں روزہ نہ رکھیں تاکہ ان کی قوت و توانائی رمضان کے روزوں کے لئے برقرار رہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح