يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، أَبِي بَكْرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ النَّضْرِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ النَّضْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَاسْتَعْجَمَ الْقُرْآنُ عَلَى لِسَانِهِ، فَلَمْ يَدْرِ مَا يَقُولُ اضْطَجَعَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو پھر (نیند کے غلبے کی وجہ سے) قرآن اس کی زبان پر لڑکھڑانے لگے، اور اسے معلوم نہ رہے کہ زبان سے کیا کہہ رہا ہے، تو اسے سو جانا چاہیئے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1372]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14815)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 31 (787)، سنن ابی داود/الصلاة 308 (1311)، مسند احمد (2/218) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح