عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى اللَّيْثِيُّ ، عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى اللَّيْثِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَرَأَى حَبْلًا مَمْدُودًا بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ، فَقَالَ:" مَا هَذَا الْحَبْلُ؟"، قَالُوا لِزَيْنَبَ: تُصَلِّي فِيهِ، فَإِذَا فَتَرَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ، فَقَالَ:" حُلُّوهُ حُلُّوهُ لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ، فَإِذَا فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے، تو دو ستونوں کے درمیان ایک رسی تنی ہوئی دیکھی، پوچھا ”یہ رسی کیسی ہے؟“ لوگوں نے کہا: زینب کی ہے، وہ یہاں نماز پڑھتی ہیں، جب تھک جاتی ہیں تو اسی رسی سے لٹک جاتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کھول دو، اسے کھول دو، تم میں سے نماز پڑھنے والے کو نماز اپنی نشاط اور چستی میں پڑھنی چاہیئے، اور جب تھک جائے تو بیٹھ رہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1371]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/التہجد 18 (1150)، صحیح مسلم/المسافرین 32 (784)، سنن النسائی/قیام اللیل 15 (1644)، (تحفة الأشراف: 1033)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 308 (1311)، مسند احمد (3/101، 184، 204، 256) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: جب تھک جائے تو نماز سے رک جائے اور آرام کرے، مقصد یہ ہے کہ طاقت سے زیادہ نفلی عبادت ضروری نہیں ہے، جب تک دل لگے اس وقت تک کرے، بے دلی اور نفرت کے ساتھ عبادت کرنے سے بچتا رہے، اور اگر نفلی عبادت سے تھک کر کوئی آرام کرے، تاکہ دوبارہ عبادت کی قوت حاصل ہو جائے، تو اس کا یہ آرام بھی مثل عبادت کے ہو گا۔
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
الحكم: صحيح