عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ ، حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: كَانَ بِيَ النَّاصُورُ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ:" صَلِّ قَائِمًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے ناسور ۱؎ کی بیماری تھی، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نماز کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھو، اور اگر بیٹھنے کی بھی طاقت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1223]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الصلاة 179 (952)، سنن الترمذی/الصلاة 158 (372)، (تحفة الأشراف: 10832)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 19 (1117) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: باء اور نون دونوں کے ساتھ اس لفظ کا استعمال ہوتا ہے، باسور مقعد کے اندرونی حصہ میں ورم کی بیماری کا نام ہے اور ناسور ایک ایسا خراب زخم ہے کہ جب تک اس میں فاسد مادہ موجود رہے تب تک وہ اچھا نہیں ہوتا۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح