عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ بْنِ عَبِيدَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ بْنِ عَبِيدَةَ بْنِ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَأَحْدَثَ، فَلْيُمْسِكْ عَلَى أَنْفِهِ، ثُمَّ لِيَنْصَرِفْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی شخص کو نماز میں حدث ہو جائے، تو اپنی ناک پکڑ لے اور چلا جائے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1222]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17129، ومصباح الزجاجة: 429)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 236 (1114) (صحیح)» (تراجع الألبانی: رقم: 32، صحیح ابی داود: 1020، سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2976)
وضاحت
۱؎: وضو کرنے کے لئے ناک پکڑنے کا حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ اس سے لوگ سمجھیں کہ اس کی نکسیر پھوٹ گئی ہے، کیونکہ شرم کی بات ہے (ہوا خارج ہو جانے کی بات) کو چھپانا ہی بہتر ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
عمر بن علي المقدمي صرح بالسماع عند الدارقطني وتابعه غير واحد عند أبي داود (1114) وابن الجارود (222) والحاكم (1/ 184، 260)
الحكم: صحيح