مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ، أَوْ لَا تَرْجِعُ أَبْصَارُهُمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو (نماز کی حالت میں) آسمان کی طرف اپنی نگاہیں اٹھانے سے باز آ جانا چاہیئے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی نگاہیں (صحیح سالم) نہ لوٹیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1045]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الصلاة 23 (428)، (تحفة الأشراف: 2130)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 167 (912)، مسند احمد (5/90، 93، 101، 108، سنن الدارمی/الصلاة 67 (1339) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی نماز کے اندر اس کام سے باز آ جائیں، اور بعضوں نے کہا کہ جب دعا کرتا ہو تو نماز سے باہر بھی نگاہ اٹھانی مکروہ ہے، اور اکثر لوگوں نے نماز سے باہر نگاہ اٹھانے کو جائز کہا ہے، اس بناء پر کہ دعا کا قبلہ آسمان ہے جیسے نماز کا قبلہ کعبہ ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح