نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، عَبْدُ الْأَعْلَى ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بِأَصْحَابِهِ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ، حَتَّى اشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ: لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَيَخْطَفَنَّ اللَّهُ أَبْصَارَهُمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک روز اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب رخ کر کے فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اپنی نگاہیں (بحالت نماز) آسمان کی جانب اٹھاتے رہتے ہیں؟“، یہاں تک کہ بڑی سختی کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ تک فرما دیا: ”لوگ اس سے ضرور باز آ جائیں ورنہ اللہ تعالیٰ ان کی نگاہیں اچک لے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1044]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأذان 2 9 (750)، سنن ابی داود/الصلاة 7 6 1 (913)، سنن النسائی/السہو 9 (1194)، (تحفة الأشراف: 1173)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/109، 112، 115، 116، 140، 258)، سنن الدارمی/ الصلاة 7 6 (1340) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح