بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جو شخص سو آیات سے ایک ہزار تک آیات پڑھے اس کی فضیلت
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی قرآن کے فضائل جو شخص سو آیات سے ایک ہزار تک آیات پڑھے اس کی فضیلت
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 3490 سنن دارمی
أَبُو النُّعْمَانِ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ عَشْرَ آيَاتٍ، كُتِبَ مِنْ الذَّاكِرِينَ، وَمَنْ قَرَأَ بِمِائَةِ آيَةٍ، كُتِبَ مِنْ الْقَانِتِينَ، وَمَنْ قَرَأَ بِخَمْسِ مِائَةِ آيَةٍ إِلَى الْأَلْفِ، أَصْبَحَ وَلَهُ قِنْطَارٌ مِنْ الْأَجْرِ، قِيلَ: وَمَا الْقِنْطَارُ؟ قَالَ: مِلْءُ مَسْكِ الثَّوْرِ ذَهَبًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے رات میں دس آیات پڑھیں وہ اللہ کا ذکر کرنے والوں میں لکھ لیا گیا، اور جس نے سو آیتیں پڑھیں وہ مطیع و فرماں برداروں میں لکھ دیا گیا، اور جس نے پانچ سو سے لے کر ایک ہزار آیات پڑھیں تو وہ صبح کو ایک قنطار اجر لے کر اٹھے گا، ان سے پوچھا گیا: ایک قطار کی مقدار کتنی ہے؟ تو انہوں نے کہا: بیل کی کھال میں بھرے ہوئے سونے کے برابر۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3490]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وهو موقوف على أبي سعيد حماد بن زيد سمع سعيد بن إياس الجريري قبل اختلاطه، [مكتبه الشامله نمبر: 3501] »
اس اثر کی سند صحیح اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے، لیکن ایسی بات رائے سے نہیں کہہ سکتے۔ والله اعلم۔ دیکھئے: [طبراني فى الأوسط 7674] و [البيهقي مختصرًا 233/7] ، [الهيثمي فى مجمع الزوائد 3657]
الحكم: إسناده صحيح وهو موقوف على أبي سعيد حماد بن زيد سمع سعيد بن إياس الجريري قبل اختلاطه
حدیث نمبر: 3491 سنن دارمی
أَبُو النُّعْمَانِ ، وُهَيْبٌ ، يُونُسَ ، الْحَسَنِ
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ مِائَةَ آيَةٍ، لَمْ يُحَاجَّهُ الْقُرْآنُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، وَمَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ مِائَتَيْ آيَةٍ، كُتِبَ لَهُ قُنُوتُ لَيْلَةٍ، وَمَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ خَمْسَ مِائَةِ آيَةٍ إِلَى الْأَلْفِ، أَصْبَحَ وَلَهُ قِنْطَارٌ فِي الْآخِرَةِ"، قَالُوا: وَمَا الْقِنْطَارُ؟ قَالَ: اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی رات میں سو آیات پڑھے اس رات کو قرآن کریم اس کے خلاف جھگڑا نہیں کرے گا، اور جس نے رات میں دو سو آیات پڑھیں اس کے لئے رات بھر کی دعا و ذکر لکھا گیا، اور جس نے پانچ سو سے ہزار تک آیات پڑھیں تو آخرت میں اس کے لئے ایک قنطار ہو گا، لوگوں نے پوچھا: قنطار کیا ہے؟ کہا: بارہ ہزار (نیکیاں)۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3491]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لإرساله، [مكتبه الشامله نمبر: 3502] »
اس اثر کی سند مرسل ضعیف ہے۔ [مشكاة 2186] میں اس کو امام دارمی رحمہ اللہ کی طرف منسوب کیا ہے۔ نیز دیکھئے: [تفسير الطبري 200/3]
الحكم: إسناده ضعيف لإرساله
حدیث نمبر: 3492 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، فِطْرٌ ، أَبِي إِسْحَاق ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ ثَلَاثَ مِائَةِ آيَةٍ، كُتِبَ لَهُ قِنْطَارٌ، وَمَنْ قَرَأَ سَبْعَ مِائَةِ آيَةٍ"، لَا أَدْرِي أَيَّ شَيْءٍ قَالَ فِيهَا أَبُو نُعَيْمٍ بِقَوْلِهِ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جس شخص نے رات میں تین سو آیات تلاوت کیں اس کے لئے ایک قنطار (ثواب کا) لکھ دیا گیا، اور جس نے سات سو آیات پڑھیں پتہ نہیں اس کے بارے میں انہوں نے کیا کہا، اس بارے میں ابونعیم نے اپنی طرف سے کہا۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3492]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3503] »
اس اثر کی سند صحیح ہے، لیکن سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔
الحكم: إسناده صحيح