بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
قیدی کی میراث کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وراثت کے مسائل کا بیان قیدی کی میراث کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 3123 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي امْرَأَةِ الْأَسِيرِ:"أَنَّهَا تَرِثُهُ وَيَرِثُهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابن ابی الزناد نے اپنے والد سے روایت کیا کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے قیدی کی بیوی کے بارے میں کہا کہ وہ اس کی وارث ہو گی اور قیدی اس عورت کا وارث ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3123]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن إلى عمر بن عبد العزيز، [مكتبه الشامله نمبر: 3132] »
عمر بن عبدالعزيز رحمہ اللہ تک اس اثر کی سند حسن ہے عبدالرحمٰن بن ابی الزناد کی وجہ سے، «و انفرد به الدارمي» ۔
الحكم: إسناده حسن إلى عمر بن عبد العزيز
حدیث نمبر: 3124 سنن دارمی
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنِي مَعْمَرٌ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي الْأَسِيرِ يُوصِي، قَالَ: "أُجيزُ لَهُ وَصِيَّتَهُ مَا دَامَ عَلَى دِينِهِ لَمْ يَتَغَيَّرْ عَنْ دِينِهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
اسحاق بن راشد سے مروی ہے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اسیر کے بارے میں کہا جو وصیت کر جائے، انہوں نے کہا: اس کی وصیت کو جب تک وہ اپنے دین پر ہے میں جائز سمجھتا ہوں جب تک کہ دین نہ بدلے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3124]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى عمر، [مكتبه الشامله نمبر: 3133] »
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تک اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 10150] ، [فتح الباري 45/12]
الحكم: إسناده صحيح إلى عمر
حدیث نمبر: 3125 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ، قَالَ: "يُوَرَّثُ الْأَسِيرُ إِذَا كَانَ فِي أَيْدِي الْعَدُوِّ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
قاضی شریح رحمہ اللہ نے کہا: قیدی جب دشمن کے قبضہ میں ہو تو وہ وارث مانا جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3125]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3134] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 19202] ، [ابن أبى شيبه 11518] ، [فتح الباري 49/12]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3126 سنن دارمی
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ إِبْرَاهِيمَ، يَقُولُ: "يُوَرَّثُ الْأَسِيرُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سفیان نے کہا جس نے ابراہیم رحمہ اللہ سے سنا، اس نے بیان کیا کہ ابراہیم رحمہ اللہ کہتے تھے: اسیر کو وارث مانا جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3126]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف فيه جهالة، [مكتبه الشامله نمبر: 3135] »
اس روایت کی سند میں ابراہیم رحمہ اللہ سے جس نے سنا مجہول ہے، لیکن عبدالرزاق نے صحیح سند سے بھی روایت کیا ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11522] ، [عبدالرزاق 19202]
الحكم: إسناده ضعيف فيه جهالة
حدیث نمبر: 3127 سنن دارمی
حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنَّهُ كَانَ "لَا يُوَرِّثُ الْأَسِيرَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
داؤد (ابن ابی ہند) نے کہا: سعید بن المسيب رحمہ اللہ اسیر کو وارث نہیں مانتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3127]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3136] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11523، 11524] ۔ اس اثر کو امام بخاری نے تعلیقاً ذکر کیا ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا: پہلی جماعت کا قول راجح ہے، یعنی قیدی وراثت میں اپنے حصے کا حقدار ہوگا، اور اس کے رشتے دار اس کے وارث ہونگے۔ دیکھئے: [فتح الباري 50/12] ، والله اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح