بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
قاتل کی میراث کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وراثت کے مسائل کا بیان قاتل کی میراث کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 10
حدیث نمبر: 3110 سنن دارمی
زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ عَمْرٍو ، عَبْدِ الْكَرِيمِ ، الْحَكَمِ ، عَطَاءٌ
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ الْحَكَمِ، قَالَ: "إِذَا قَتَلَ الرَّجُلُ أَخَاهُ عَمْدًا، لَمْ يُوَرَّثْ مِنْ مِيرَاثِهِ، وَلَا مِنْ دِيَتِهِ، فَإِذَا قَتَلَهُ خَطَأً، وُرِّثَ مِنْ مِيرَاثِهِ، وَلَمْ يُوَرَّثْ مِنْ دِيَتِهِ. قَالَ: وَكَانَ عَطَاءٌ يَقُولُ ذَلِكَ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
حکم نے کہا: جو آدمی اپنے بھائی کو عمداً قتل کر ڈالے تو وہ نہ اس کی میراث میں سے کچھ لے سکے گا اور نہ اس کی دیت میں سے اس کو کچھ دیا جائے گا، اور اگر قتل خطا سے بھائی کی موت واقع ہوئی ہو تو میراث میں سے اس کو حصہ ملے گا، دیت میں سے کچھ نہیں ملے گا، انہوں نے کہا: عطاء بھی یہ ہی کہتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3110]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه منقطع، [مكتبه الشامله نمبر: 3119] »
حکم بن عتبہ عبدالکریم بن مالک سے روایت کرنے میں معروف نہیں ہیں، اس لئے یہ روایت منقطع ہے، لیکن دوسری صحیح سند سے بھی ایسے ہی مروی ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11452]
الحكم: رجاله ثقات غير أنه منقطع
حدیث نمبر: 3111 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، خِلَاسٍ ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: رَمَى رَجُلٌ أُمَّهُ بِحَجَرٍ فَقَتَلَهَا، فَطَلَبَ مِيرَاثَهُ مِنْ إِخْوَتِهِ، فَقَالَ لَهُ إِخْوَتُهُ: لَا مِيرَاثَ لَكَ، فَارْتَفَعُوا إِلَى عَلِيٍّ، "فَجَعَلَ عَلَيْهِ الدِّيَةَ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ الْمِيرَاثِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
خلاس سے مروی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے روایت کیا: ایک آدمی نے اپنی ماں کو پتھر کھینچ مارا، چنانچہ وہ فوت ہو گئی، اس (مارنے والے) نے اپنے بھائیوں سے میراث میں سے اپنا حصہ طلب کیا، تو انہوں نے کہا: میراث میں تمہارا کوئی حق نہیں، وہ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے مارنے والے پر دیت کو لازم کیا اور میراث سے بے دخل کر دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3111]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده رجاله ثقات غير أنه منقطع خلاس بن عمرو لم يدرك عليا، [مكتبه الشامله نمبر: 3120] »
اس اثر کی سند میں بھی انقطاع ہے کیوں کہ خلاس بن عمرو نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پایا ہی نہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11454] ، [عبدالرزاق 17796] ، [البيهقي 220/6] ۔ اس روایت کی سند میں سعید: ابن ابی عروبہ ہیں۔
الحكم: إسناده رجاله ثقات غير أنه منقطع خلاس بن عمرو لم يدرك عليا
حدیث نمبر: 3112 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، زُهَيْرٌ ، الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ ، الْحَكَمِ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ الْحَكَمِ: أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا قَتَلَ امْرَأَتَهُ خَطَأً،"أَنَّهُ يُمْنَعُ مِيرَاثَهُ مِنْ الْعَقْلِ وَغَيْرِهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
حکم سے مروی ہے کہ کوئی آدمی جب اپنی بیوی کو قتل خطا سے مار ڈالے تو وہ دیت وغیرہ کی میراث سے بے دخل کر دیا جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3112]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى الحكم، [مكتبه الشامله نمبر: 3121] »
یہ روایت حکم سے صحیح ہے، اور زہیر: ابن معاویہ ہیں۔ اس اثر کو صرف امام دارمی رحمہ اللہ نے ہی روایت کیا ہے۔
الحكم: إسناده صحيح إلى الحكم
حدیث نمبر: 3113 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، لَيْثٍ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: "لَا يَرِثُ الْقَاتِلُ مِنْ الْمَقْتُولِ شَيْئًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
مجاہد سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: قاتل مقتول کی کسی چیز کا وارث نہ ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3113]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف ليث بن أبي سليم، [مكتبه الشامله نمبر: 3122] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے، کیونکہ لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4564] ، [ابن ماجه 2735] و [الترمذي 2109] ، [ابن أبى شيبه 11443]
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ليث بن أبي سليم
حدیث نمبر: 3114 سنن دارمی
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ:"فِي رَجُلٍ قَذَفَ امْرَأَتَهُ، وَجَاءَ بِشُهُودٍ فَرُجِمَتْ؟ قَالَ: يَرِثُهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
معمر نے قتادہ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تہمت لگائی اور شہود (گواہ) بھی لایا جس کے نتیجے میں اس عورت کو رجم کر دیا گیا، قتادہ نے کہا: وہ (شوہر) اس کا وارث ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3114]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى قتادة وهو موقوف عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 3123] »
یہ اثر قتادہ سے صحیح سند کے ساتھ مروی ہے، «و انفرد به الدارمي» ۔
الحكم: إسناده صحيح إلى قتادة وهو موقوف عليه
حدیث نمبر: 3115 سنن دارمی
أَبُو النُّعْمَانِ ، أَبُو عَوَانَةَ ، حَمَّادٍ
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حَمَّادٍ:"فِي رَجُلٍ جُلِدَ الْحَدَّ أَرَاهُ مَاتَ، شَكَّ أَبُو النُّعْمَانِ؟ قَالَ: يَتَوَارَثَانِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوعوانہ نے حماد سے بیان کیا کہ ایک آدمی کو کوڑوں کی سزا دی گئی، نعمان نے کہا: شاید جس کے نتیجے میں وہ مر گیا، حماد نے کہا: وہ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3115]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى حماد، [مكتبه الشامله نمبر: 3124] »
ابوالنعمان: محمد بن فضل عارم ہیں، سند صحیح ہے اور امام دارمی رحمہ اللہ کے علاوہ کسی نے یہ اثر ذکر نہیں کی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح إلى حماد
حدیث نمبر: 3116 سنن دارمی
أَبُو النُّعْمَانِ ، أَبُو عَوَانَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ ، عَامِرٍ ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: "الْقَاتِلُ لَا يَرِثُ، وَلَا يَحْجُبُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عامر (شعبی) رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: قاتل نہ میراث پائے گا نہ حاجب ہوگا (یعنی کسی وارث کو محروم بھی نہ کرے گا)۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3116]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف محمد بن سالم، [مكتبه الشامله نمبر: 3125] »
محمد بن سالم کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [البيهقي 220/6]
الحكم: إسناده ضعيف لضعف محمد بن سالم
حدیث نمبر: 3117 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، حَسَنٌ ، لَيْثٍ ، أَبِي عَمْرٍو الْعَبْدِيِّ ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الْعَبْدِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: "لَا يُوَرَّثُ الْقَاتِلُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوعمرو عبدی سے مروی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: قاتل کو میراث نہیں دی جائے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3117]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف ليث وهو ابن أبي سليم، [مكتبه الشامله نمبر: 3126] »
لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے اس اثر کی سند بھی ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11445]
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ليث وهو ابن أبي سليم
حدیث نمبر: 3118 سنن دارمی
زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، أَبُو بَكْرٍ ، مُطَرِّفٍ ، الشَّعْبِيِّ ، عُمَرُ
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: "لَا يَرِثُ قَاتِلٌ خَطَأً، وَلَا عَمْدًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خطا اور عمد کسی کا بھی قاتل وارث نہ ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3118]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه منقطع لم يدرك الشعبي عمر بن الخطاب، [مكتبه الشامله نمبر: 3127] »
شعبی رحمہ اللہ کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں ہوئی، اس لئے یہ اثر منقطع ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11442] ، [عبدالرزاق 17789] ، [البيهقي 220/6]
الحكم: رجاله ثقات غير أنه منقطع لم يدرك الشعبي عمر بن الخطاب
حدیث نمبر: 3119 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانَ ، لَيْثٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: "لَا يَرِثُ الْقَاتِلُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
طاؤوس رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: قاتل وارث نہ ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3119]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 3128] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 17786] ۔ نیز اثر رقم (3113) جو اوپر گذر چکا ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 3109 سے 3119)
قاتل کے بارے میں صحیح یہی ہے کہ وہ نہ میراث میں کچھ لینے کا حق دار ہوگا نہ دیت میں سے، چاہے قتل عمداً کیا ہو یا خطا، بعض فقہاء نے کہا ہے کہ عمداً قتل کیا تو میراث سے محروم ہوگا، اور غلطی سے قتل ہوا جیسے ڈنڈا مارا، دھکا دیا اور مقتول کی جان نکل گئی تو مال کا وارث ہوگا دیت کا نہیں۔
بہرحال راجح وہی ہے جو اوپر ذکر کیا گیا۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: [نيل الأوطار 142/4، رقم الحديث 2581] و [التحقيقات المرضية فى المباحث الفرضية، ص: 54-55] ۔
الحكم: إسناده ضعيف