زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ عَمْرٍو ، عَبْدِ الْكَرِيمِ ، الْحَكَمِ ، عَطَاءٌ
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ الْحَكَمِ، قَالَ: "إِذَا قَتَلَ الرَّجُلُ أَخَاهُ عَمْدًا، لَمْ يُوَرَّثْ مِنْ مِيرَاثِهِ، وَلَا مِنْ دِيَتِهِ، فَإِذَا قَتَلَهُ خَطَأً، وُرِّثَ مِنْ مِيرَاثِهِ، وَلَمْ يُوَرَّثْ مِنْ دِيَتِهِ. قَالَ: وَكَانَ عَطَاءٌ يَقُولُ ذَلِكَ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
حکم نے کہا: جو آدمی اپنے بھائی کو عمداً قتل کر ڈالے تو وہ نہ اس کی میراث میں سے کچھ لے سکے گا اور نہ اس کی دیت میں سے اس کو کچھ دیا جائے گا، اور اگر قتل خطا سے بھائی کی موت واقع ہوئی ہو تو میراث میں سے اس کو حصہ ملے گا، دیت میں سے کچھ نہیں ملے گا، انہوں نے کہا: عطاء بھی یہ ہی کہتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3110]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه منقطع، [مكتبه الشامله نمبر: 3119] »
حکم بن عتبہ عبدالکریم بن مالک سے روایت کرنے میں معروف نہیں ہیں، اس لئے یہ روایت منقطع ہے، لیکن دوسری صحیح سند سے بھی ایسے ہی مروی ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11452]
الحكم: رجاله ثقات غير أنه منقطع