بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مشرک اور مسلم کی میراث کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وراثت کے مسائل کا بیان مشرک اور مسلم کی میراث کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 14
حدیث نمبر: 3021 سنن دارمی
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، يَحْيَى ، سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ ، لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى: أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ: أَنَّ عَمَّةً لَهُ تُوُفِّيَتْ يَهُودِيَّةً بِالْيَمَنِ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ: "يَرِثُهَا أَقْرَبُ النَّاسِ إِلَيْهَا مِنْ أَهْلِ دِينِهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
محمد بن اشعث سے مروی ہے کہ ان کی یہودیہ پھوپھی یمن میں فوت ہو گئیں، انہوں نے اس کا تذکرہ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے کیا تو انہوں نے کہا: جو ان کا قریبی رشتہ دار ان کے مذہب پر ہو گا وہی ان کا وارث ہو گا۔ (یعنی تم مسلمان ہو، اس یہودیہ پھوپھی کے وارث نہ ہو گے، ان کا یہودی رشتے دار ہی ان کا وارث ہو گا۔) [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3021]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 3031] »
اس اثر کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [الموطأ: ميراث أهل الملل فى الفرائض 12] ، [ابن أبى شيبه 11490] ، [عبدالرزاق 9859، 19307] ، [البيهقي 218/3]
الحكم: إسناده جيد
حدیث نمبر: 3022 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانُ ، قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّاب
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: مَاتَتْ عَمَّةُ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ وَهِيَ يَهُودِيَّة، فَأَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّاب، فَقَالَ: "أَهْلُ دِينِهَا يَرِثُونَهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
طارق بن شہاب نے کہا: اشعث بن قیس کی پھوپھی وفات پا گئیں جو کہ یہودی تھیں، وہ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے جواب دیا: جو ان کے دین پر ہیں (یعنی یہودی ہیں صرف) وہی ان کے وارث ہوں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3022]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3032] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11484] ، [عبدالرزاق 9860] ، [البيهقي 219/6]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3023 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانُ ، حَمَّادٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: "أَهْلُ الشِّرْكِ لَا نَرِثُهُمْ، وَلَا يَرِثُونَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم مشرکین کے وارث نہیں ہیں، نہ وہ ہمارے وارث ہوں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3023]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده رجاله ثقات غير أنه منقطع، [مكتبه الشامله نمبر: 3033] »
اس اثر کے رجال ثقات ہیں، لیکن اس کی سند میں انقطاع ہے، ابراہیم رحمہ اللہ ( «لم يدرك عمر رضي الله عنه» ) اور حماد: ابن ابی سلیمان ہیں۔ تخریج کے لئے دیکھئے: [عبدالرزاق 9856، 19294] ، [ابن منصور 141] ۔ یہ روایت آگے مرفوع آرہی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان مشرک کا وارث نہیں ہوگا، اور نہ مشرک مسلمان کا وراث بنے گا۔
الحكم: إسناده رجاله ثقات غير أنه منقطع
حدیث نمبر: 3024 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، حَسَنٌ ، عِيسَى الْخياط ، الشَّعْبِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ، عَنْ عِيسَى الْخياط، عَنْ الشَّعْبِيِّ:"أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، قَالُوا: لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ دِينَيْنِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
شعبی رحمہ اللہ نے کہا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما دو (مختلف) دین کے لوگوں کو آپس میں وارث نہیں مانتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3024]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «لم يحكم عليه المحقق، [مكتبه الشامله نمبر: 3034] »
اس اثر کی سند میں حسن: ابن صالح ہیں اور عیسیٰ بن ابی عیسیٰ الخیاط متروک ہیں۔ اس اثر کو عبدالرزاق نے [مصنف 9871] پر ذکر کیا ہے۔
الحكم: لم يحكم عليه المحقق
حدیث نمبر: 3025 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، زُهَيْرٌ ، مُطَرِّفٍ ، عَامِرٍ ، عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: "لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عامر (الشعبی) رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دو (مختلف) ملتوں کے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3025]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه منقطع، [مكتبه الشامله نمبر: 3035] »
اس اثر کے رجال ثقات ہیں، لیکن سند میں انقطاع ہے کیوں کہ عامر الشعبی کی ملاقات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 9864] ، لیکن اس کا شاہد صحیحین میں موجود ہے جیسا کہ آگے (3033) میں آرہا ہے۔
الحكم: رجاله ثقات غير أنه منقطع
حدیث نمبر: 3026 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، شَرِيكٌ ، الْأَشْعَثِ ، الْحَسَنِ ، جَابِرٍ
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ الْأَشْعَثِ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: "لَا نَرِثُ أَهْلَ الْكِتَابِ وَلَا يَرِثُونَا، إِلَّا أَنْ يَمُوتَ لِلرَّجُلِ عَبْدُهُ أَوْ أَمَتُهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اہل کتاب کے نہ ہم وارث ہوں گے نہ وہ ہمارے وارث ہوں گے۔ سوائے اس کے کہ کسی آدمی کا غلام یا اس کی لونڈی فوت ہو جائے۔ (یعنی مسلم غیر مسلم کا وارث نہیں لیکن کسی کا غیر مسلم غلام یا لونڈی فوت ہوئے تو اس کا مال آقا کو ملے گا۔) [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3026]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف وهو موقوف على جابر، [مكتبه الشامله نمبر: 3036] »
اس روایت کی سند میں ضعف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11495] و [مجمع الزوائد 7245 موقوفًا على جابر]
الحكم: إسناده ضعيف وهو موقوف على جابر
حدیث نمبر: 3027 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، شَرِيكٌ ، الْأَشْعَثِ ، الْحَسَنِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ الْأَشْعَثِ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا نَرِثُ أَهْلَ الْكِتَابِ وَلَا يَرِثُونَا، إِلَّا الرَّجُلُ يَرِثُ عَبْدَهُ، أَوْ أَمَتَهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
اس حدیث کا ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3027]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 3037] »
تخریج بھی وہی ہے جو اوپر گذری۔
الحكم: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 3028 سنن دارمی
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، دَاوُدَ ، الشَّعْبِيِّ ، مَسْرُوقٍ ، مُعَاوِيَةُ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ:"كَانَ مُعَاوِيَةُ يُوَرِّثُ الْمُسْلِمَ مِنْ الْكَافِرِ، وَلَا يُوَرِّثُ الْكَافِرَ مِنْ الْمُسْلِمِ، قَالَ: قَالَ مَسْرُوقٌ: وَمَا حَدَثَ فِي الْإِسْلَامِ قَضَاءٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ، قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ: تَقُولُ بِهَذَا؟ قَالَ: لا.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
مسروق رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مسلمان کو کافر کا وارث مانتے تھے لیکن کافر کو مسلم کا وارث نہیں مانتے تھے، شعبی رحمہ اللہ نے کہا: مسروق نے کہا: اسلام میں اس سے زیادہ اچھا مجھے اور کوئی فیصلہ نہ لگا۔ امام دارمی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا آپ بھی یہی فرماتے ہیں؟ کہا: نہیں (یعنی دونوں کے درمیان توارث جائز نہیں جیسا کہ آگے صحیح حدیث میں آرہا ہے۔) [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3028]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أننا لم نعرف لمسروق رواية عن معاوية، [مكتبه الشامله نمبر: 3038] »
اس اثر کے رواۃ ثقات ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11497] ، [ابن منصور 145، 147 بسند صحيح]
الحكم: رجاله ثقات غير أننا لم نعرف لمسروق رواية عن معاوية
حدیث نمبر: 3029 سنن دارمی
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَامِرٍ ، عُمَرُ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ: أَنَّ الْمُعْزِلَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ تُوُفِّيَتْ بِالْيَمَنِ وَهِيَ يَهُودِيَّةٌ، فَرَكِبَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ، وَكَانَتْ عَمَّتَهُ، إِلَى عُمَرَ فِي مِيرَاثِهَا، فَقَالَ عُمَرُ:"لَيْسَ ذَاكَ لَكَ، يَرِثُهَا أَقْرَبُ النَّاسِ مِنْهَا مِنْ أَهْلِ دِينِهَا، لَا يَتَوَارَثُ مِلَّتَانِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عامر الشعبی رحمہ اللہ نے کہا: معزلہ بنت حارث یہودیہ یمن میں فوت ہوئیں تو اشعث بن قیس جن کی وہ پھوپھی تھیں سوار ہو کر اس کی میراث کے بارے میں پوچھنے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم ان کی میراث نہیں پا سکتے ہو، ان کے دین والا ان کا قریبی رشتے دار ہی ان کا وارث ہو گا (کیوں کہ) دو ملتوں کے لوگ آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں بنتے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3029]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3039] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [سنن سعيد بن منصور 144] ۔ نیز دیکھئے: رقم (3024، 3025) کی تخریج۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3030 سنن دارمی
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: "لَا يَتَوَارَثُ مِلَّتَانِ شَتَّى، وَلَا يَحْجُبُ مَنْ لَا يَرِثُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
انس بن سیرین نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دو مختلف ملتوں کے لوگ وارث نہ ہوں گے، اور جو وارث نہ ہو محروم بھی نہ کرے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3030]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه منقطع أنس بن سيرين لم يدرك ابن الخطاب، [مكتبه الشامله نمبر: 3040] »
اس اثر کی سند میں انقطاع ہے، انس نے امیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو پایا ہی نہیں، رجال اس سند کے ثقات ہیں۔ دیکھئے: [ابن منصور 138]
الحكم: رجاله ثقات غير أنه منقطع أنس بن سيرين لم يدرك ابن الخطاب
حدیث نمبر: 3031 سنن دارمی
نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ، وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کافر کا وارث نہیں ہو سکتا اور نہ کافر مسلمان کا وارث ہو سکتا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3031]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3041] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6764] ، [مسلم 1614] ، [أبوداؤد 2909] ، [ترمذي 2108] ، [ابن ماجه 2729] ، [أبويعلی 4757] ، [ابن حبان 6033] ، [الحميدي 551] ۔ نیز آگے بھی یہ حدیث آرہی ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 3020 سے 3031)
یعنی باپ مسلمان ہو اور بیٹا کافر تو باپ بیٹے کا وارث نہیں ہوگا، اور بیٹا کافر باپ مسلمان ہو تب بھی بیٹا باپ کا وارث نہ ہوگا۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3032 سنن دارمی
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "إِذَا مَاتَ الْمَيِّتُ وَجَبَتْ الْحُقُوقُ لِأَهْلِهَا، وَلَمْ يَجْعَلْ لِمَنْ أَسْلَمَ أَوْ أُعْتِقَ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ الْمِيرَاثُ شَيْئًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: جب آدمی مر جائے تو وارث کا حق (وراثت) واجب ہو جاتا ہے، اور جو میراث کی تقسیم سے پہلے مسلمان ہو یا آزاد ہو اس کے لئے میراث میں سے انہوں نے کچھ نہیں رکھا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3032]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف جعفر بن عون لم يذكر فيمن سمع سعيد بن أبي عروبة قبل الاختلاط، [مكتبه الشامله نمبر: 3042] »
اس اثر کی سند ضعیف ہے، لیکن دوسری صحیح سند سے بھی مروی ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11675] ، [عبدالرزاق 9889]
وضاحت
(تشریح حدیث 3031)
یعنی آدمی کے مرنے کے بعد اس کا وارث جو کا فر تھا، تقسیم سے پہلے اگر مسلمان ہو جائے تب بھی وارث نہ ہوگا، اسی طرح غلام موت کے بعد تقسیم سے پہلے آزاد ہو تو اسے بھی وراثت نہ ملے گی کیوں کہ مرنے والے کی حیات میں وہ اس کے خلافِ مذہب اور مانعِ ارث تھے۔
الحكم: إسناده ضعيف جعفر بن عون لم يذكر فيمن سمع سعيد بن أبي عروبة قبل الاختلاط
حدیث نمبر: 3033 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، الزُّهْرِيِّ ، عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ، وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کافر کا وارث نہیں ہو سکتا ہے اور نہ کافر مسلمان کا وارث ہو سکتا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3033]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 3043] »
اس حدیث کی تخریج (3031) پرگذر چکی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح والحديث متفق عليه
حدیث نمبر: 3034 سنن دارمی
عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ، وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
اس حدیث کا ترجمہ اور تخریج وہی ہے جو اوپر گزری۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3034]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3044] »
اس حدیث کا ترجمہ اور تخریج وہی ہے جو اوپر گذری۔
وضاحت
(تشریح احادیث 3032 سے 3034)
ان تمام آثار اور احادیث سے ثابت ہوا کہ مسلم غیرمسلم کا اور غیرمسلم مسلمان کا وارث نہ ہوگا۔
الحكم: إسناده صحيح