بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
وہ نام جن کا رکھنا مکروہ ہے
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی کتاب الاستئذان کے بارے میں وہ نام جن کا رکھنا مکروہ ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2731 سنن دارمی
زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، مُعْتَمِرٌ ، الرُّكَيْنِ ، أَبِيهِ ، سَمُرَةَ
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ الرُّكَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"نَهَى أَنْ نُسَمِّيَ أَرِقَّاءَنَا أَرْبَعَةَ أَسْمَاءٍ: أَفْلَحُ، وَنَافِعٌ، وَرَبَاحٌ، وَيَسَارٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سمره رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اپنے غلاموں کے یہ چار نام رکھنے سے منع فرمایا: افلح، نافع، رباح، اورنجاح۔ [سنن دارمي/من كتاب الاستئذان/حدیث: 2731]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2738] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 2136] ، [أبوداؤد 4958] ، [ترمذي 2836] ، [ابن ماجه 3729] ، [ابن حبان 5837]
وضاحت
(تشریح حدیث 2730)
«أفلح» اور «نجاح» کے معنی کامیابی، «نافع» اور «رباح» کے معانی فائدہ مند کے ہیں، گو یہ معانی اچھے ہیں لیکن اس سے بدفالی کا پہلو نکلتا ہے شاید اس لئے کراہت ظاہر کی گئی، مثلاً کوئی پوچھے: یہاں رباح یا نجاح ہے؟ تو جواب یہ دیا جائے کہ نہیں ہے، تو اس سے بدفالی مراد ہو سکتی ہے۔
(والله اعلم)۔
الحكم: إسناده صحيح