بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
اچانک کسی عورت پر نظر پڑ جانے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی کتاب الاستئذان کے بارے میں اچانک کسی عورت پر نظر پڑ جانے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2679 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانَ ، يُونُسَ ، عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، وَأَبُو نُعَيْمٍ , عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظْرَةِ الْفَجْأَةِ، فَقَالَ: "اصْرِفْ بَصَرَكَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ناگاه (اچانک) نظر پڑنے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنی نظر پھیر لو۔ [سنن دارمي/من كتاب الاستئذان/حدیث: 2679]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2685] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 2159] ، [أبوداؤد 2148] ، [ترمذي 2776] ، [ابن حبان 5571]
وضاحت
(تشریح حدیث 2678)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر اجنبی عورت پر اچانک نظر پڑ جائے تو گناہ نہ ہوگا، لیکن اسی وقت نگاہ پھیر لینا واجب ہے۔
پھر اگر عمداً دیکھے گا تو گنہگار ہوگا۔
ایک حدیث میں ہے کہ پہلی نظر میں کچھ نہیں اور دوسری بار دیکھنا جائز نہیں۔
دیکھئے حدیث (2744)۔
الحكم: إسناده صحيح