بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جفتی کرانے پر اجرت لینے کی ممانعت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی خرید و فروخت کے ابواب جفتی کرانے پر اجرت لینے کی ممانعت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2659 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، ابْنُ فُضَيْلٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:"نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ عَسْبِ الْفَحْلِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نر (جانور) کے پانی (منی) کی قیمت لینے سے منع فرمایا۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2659]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2665] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 3429] ، [ترمذي 1273] ، [نسائي 4689] ، [ابن ماجه 2160] ، [أبويعلی 6371]
وضاحت
(تشریح حدیث 2658)
نر گھوڑا، اونٹ، یا گدھا، بیل، یا بکرا وغیرہ سے ان کی مادہ کا جفتی کرانے پر اجرت لینا منع ہے۔
البتہ اگر بلا شرط مادہ کا مالک کچھ دے بطورِ سلوک کے تو اس کا لینا درست ہے، نیز نر کا عاریتاً دینا بھی مستحب ہے۔
اور علماء کی ایک جماعت نے اجرت کی بھی اجازت دی ہے تاکہ نسل منقطع نہ ہو، ان احادیث کی رو سے فقہاء اس کی حرمت کے قائل ہیں۔
«(وحيدي فى شرح ابن ماجه)» ۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2660 سنن دارمی
مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَبِي ، الْمَهْرِيِّ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ الْمَهْرِيِّ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ"نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ، وَأَجْرِ الْمُومِسَةِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نر کے پانی پر اجرت لینے سے منع فرمایا اور زانیہ عورت کی اجرت (لینے) سے بھی منع فرمایا۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2660]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 2666] »
اس روایت کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [أحمد 332/2، 415] ، اور امام بخاری نے اس کو [تاريخ كبير 115/7] میں تعلیقاً ذکر کیا ہے اور مومسہ (یعنی زانیہ) کا اس میں ذکر نہیں۔
الحكم: إسناده جيد