بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
غلام کے بارے میں خیار اور ضمان کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی خرید و فروخت کے ابواب غلام کے بارے میں خیار اور ضمان کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2587 سنن دارمی
مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، قَتَادَةُ ، الْحَسَنِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: "عُهْدَةُ الرَّقِيقِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: غلام کو اختیار (یعنی ضمانت) تین دن کا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2587]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 2593] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 3506] ، [ابن ماجه 2244] ۔ نیز دیکھئے: [مجمع الزوائد 6604]
الحكم: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 2588 سنن دارمی
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، هَمَّامٍ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، عُقْبَةَ بْنِ الْعَامِرِ
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْعَامِرِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "عُهْدَةُ الرَّقِيقِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ". فَفَسَّرَهُ قَتَادَةُ: إِنْ وَجَدَ فِي الثَّلَاثِ عَيْبًا رَدَّهُ بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ، وَإِنْ وَجَدَهُ بَعْدَ ثَلاثَةٍ، لَمْ يَرُدَّهُ إِلَّا بِبَيِّنَةٍ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: غلام کی ضمانت تین دن تک ہے۔
قتادة رحمہ اللہ نے اس کی تفسیر یوں بیان کی کہ تیسرے دن غلام میں کوئی عیب پائے تو مشتری کو اختیار ہے کہ بلا دلیل اس کو واپس کر دے اور اگر چار دن کے بعد کوئی عیب اس میں دیکھے تو بغیر دلیل کے واپس نہیں کر سکتا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2588]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف وهو مكرر سابقه، [مكتبه الشامله نمبر: 2594] »
اس حدیث کی سند بھی مثلِ سابق ضعیف ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف وهو مكرر سابقه