بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
اس امت کے فرقوں میں بٹ جانے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی سیر کے مسائل اس امت کے فرقوں میں بٹ جانے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2554 سنن دارمی
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، صَفْوَانُ ، أَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَرَازِيُّ ، أَبِي عَامِرٍ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لُحَيٍّ الْهَوْزَنِيِّ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ، حَدَّثَنِي أَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَرَازِيُّ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لُحَيٍّ الْهَوْزَنِيِّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِينَا، فَقَالَ: "أَلا إِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ افْتَرَقُوا عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، وَإِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ سَتَفْتَرِقُ عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ: اثْنَتَانِ وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ، وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ". قَالَ عَبْد اللَّهِ: الْحَرَازُ قَبِيلَةٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم لوگوں میں خطیب کی صورت میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: سنو! تم سے پہلے اہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ) بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور اس ملت کے لوگ قریب ہے کہ تہتر فرتے ہو جائیں، ان میں سے (72) بہتر جہنم میں جائیں گے اور صرف ایک فرقہ جنت میں جائے گا۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا:حراز اہلِ یمن میں ایک قبیلہ ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2554]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2560] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4597] ، [أحمد 102/4] ، [الشريعة للآجري، ص: 27] ، [طبراني: 376/19، 884، وغيرهم]
وضاحت
(تشریح حدیث 2553)
یہ جماعت حقہ اور طائفئہ منصورہ ہے جو جنّت میں جائے گی، اس کا ذکر دوسری صحیح روایت میں ہے: جو اللہ کی کتاب پر اور رسول اللہ کی سنّت پر قائم رہے گی، افراط و تفریط سے دور رہے گی، اور وہ اہل الحدیث ہیں۔
ان شاء اللہ، جیسا کہ امام احمد رحمہ اللہ نے کہا: اگر وہ اہل الحدیث نہیں تو مجھے علم نہیں کہ وہ کون سا گروہ ہے؟ اس کی تفصیل (2469) کے ضمن میں گذر چکی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح