الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ: أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "إِنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک الله تعالىٰ (کبھی) اس دین کی تائید و حمایت فاجر شخص سے کرا لیتا ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2553]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2559] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3062] ، [مسلم 111] ، [ابن حبان 4519] ، [ابوعوانه 46/1، وغيرهم]
وضاحت
(تشریح حدیث 2552)
اس سے معلوم ہوا کہ ضروری نہیں نیک و صالح اور عالم و فاضل ہی سے دین کی تائید و نصرت ہو، بلکہ عام آدمی بھی اسلام کے لئے باعثِ خیر و برکت ہو سکتا ہے، اور اس کی تازہ مثال کمپیوٹر اور انٹرنیٹ، موبائیل وغیرہ ہیں، جو ایک طرف شر و فساد پھیلاتے ہیں، دوسری طرف ان میں قرآن و حدیث کے سارے علوم بھرے پڑے ہیں جو راہِ مستقیم کی طرف رہنمائی کرتے ہیں، الله تعالیٰ عام مسلمانوں کو اس سے استفادے کی توفیق بخشے۔
آمین۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح