بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حکومت میں سختی کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی سیر کے مسائل حکومت میں سختی کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2551 سنن دارمی
حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَا مِنْ أَمِيرِ عَشَرَةٍ إِلَّا يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، مَغْلُولَةً يَدَاهُ إِلَى عُنُقِهِ، أَطْلَقَهُ الْحَقُّ أَوْ أَوْبَقَهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی بھی دس آدمی پر امیر و حاکم ہے اس کو قیامت کے دن اس حال میں لایا جائے گا کہ اس کے ہاتھ گردن پر بندھے ہوں گے، حق اس کو چھوڑ دے یا ہلاکت میں ڈال دے۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2551]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2557] »
اس حدیث کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [أبويعلی 6570] ، [مجمع الزوائد 7079]
وضاحت
(تشریح حدیث 2550)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حکومت اور افسر شاہی بڑی خطرناک چیز ہے۔
کوئی بھی عہدہ ملنے کے بعد اگر وہ عہدے دار حق و انصاف کے ساتھ اپنی ذمہ داری پوری کرے تو خیر ورنہ وہی حال ہوگا جو اوپر حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔
الحكم: إسناده صحيح