بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُردوں کو برا کہنے کی ممانعت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی سیر کے مسائل مُردوں کو برا کہنے کی ممانعت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2547 سنن دارمی
سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، مُجَاهِدٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ، فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مُردوں کو برا مت کہو کیونکہ انہوں نے جیسا عمل کیا اس کا بدلہ پا لیا۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2547]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2553] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1393] ، [نسائي 1935] ، [ابن حبان 3021] ، [موارد الظمآن 1985]
وضاحت
(تشریح حدیث 2546)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں ان کی برائی نہیں کرنی چاہیے، مرنے کے بعد انہیں برا کہنا، ان کے عیب بیان کرنا، ان کے عزیزوں کو ایذا دینا ہے، جبکہ حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں یہ حکم ہے: «الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ» یعنی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے اس کے مسلمان بھائی محفوظ رہیں۔
یہ حدیث آگے (2751) نمبر پر آ رہی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح