بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مشرکین کے غلام بھاگ کر مسلمانوں کے پاس آ جائیں اس کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی سیر کے مسائل مشرکین کے غلام بھاگ کر مسلمانوں کے پاس آ جائیں اس کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2544 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبُو خَالِدٍ ، الْحَجَّاجِ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: "خَرَجَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَانِ مِنَ الطَّائِفِ، فَأَعْتَقَهُمَا. أَحَدُهُمَا أَبُو بَكْرَةَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس طائف سے دو غلام بھاگ کر آگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں آزاد کر دیا، ان میں سے ایک سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2544]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف حجاج بن أرطاة، [مكتبه الشامله نمبر: 2550] »
حجاج بن ارطاة کی وجہ سے اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [أبويعلی 2564] ، [ابن أبى شيبه 15444] ، [سعيد بن منصور 2807] ، [البيهقي 3019] ، [مجمع الزوائد 7359]
وضاحت
(تشریح حدیث 2543)
اگر اس حدیث کی سند صحیح مان لی جائے تو اس سے نبیٔ رحمت فخرِ دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحمت و شفقت اور نوع انسان سے الفت و محبت ثابت ہوتی ہے کہ غلام بھاگ کر آئے تو انہیں پھر ذلت و رسوائی کی جہنم میں نہیں دھکیل دیا بلکہ آزاد فرمایا، اور اہلِ طائف سے ایسا کوئی معاہدہ نہیں تھا کہ ان میں سے کوئی آدمی مسلمانوں کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے واپس لوٹا دیں گے۔
الحكم: إسناده ضعيف لضعف حجاج بن أرطاة