بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
ذمی کو قتل کرنے کی ممانعت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی سیر کے مسائل ذمی کو قتل کرنے کی ممانعت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2540 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَوْشَنٍ الْغَطَفَانِيُّ ، أَبِيهِ ، أَبِي بَكْرَةَ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَوْشَنٍ الْغَطَفَانِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا فِي غَيْرِ كُنْهِهِ، حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے بلاوجہ کی عہد والے (ذمی) کو مار ڈالا تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کو حرام کر دے گا۔ (یعنی وہ قاتل جنت میں نہ جائے گا)۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2540]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2546] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2760] ، [نسائي 4761] ، [ابن حبان 4881] ، [موارد الظمآن 1530]
وضاحت
(تشریح حدیث 2539)
معاہد اس عہد والے کو کہتے ہیں جو جزیہ دے کر دار الاسلام میں رہتا ہے، اس کو ذمی بھی کہا جاتا ہے، ایسے غیر مسلم کے جان و مال کی حفاظت مسلم حکومت کی ذمے داری ہوتی ہے، اگر جان بوجھ کر کوئی مسلمان اس کو قتل کر دے تو اس کی اتنی بڑی سزا ہے کہ اس پر جنّت حرام ہوگی، اور وہ جہنم میں جائے گا۔
الحكم: إسناده صحيح