بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسلمانوں کا ادنیٰ فرد بھی پناہ (امان) دے سکتا ہے
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی سیر کے مسائل مسلمانوں کا ادنیٰ فرد بھی پناہ (امان) دے سکتا ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2538 سنن دارمی
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، مَالِكٌ ، أَبِي النَّضْرِ ، أَبَا مُرَّةَ ، أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ: أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ تُحَدِّثُ أَنَّهَا ذَهَبَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، زَعَمَ ابْنُ أُمِّي أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلًا أَجَرْتُهُ فَلانَ بْنُ هُبَيْرَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عقیل بن ابی طالب کے آزاد کردہ غلام ابومرہ نے کہا: انہوں نے سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا سے سنا: وہ بیان کرتی ہیں کہ وہ فتح مکہ کے سال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس گئیں، عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میرے ماں جائے بھائی (سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ) کا خیال ہے کہ وہ اس شخص ہبیرہ کے فلاں بیٹے کو قتل کر ڈالیں گے جس کو میں نے پناہ دی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے ام ہانی! جس کو تم نے پناہ دی ہے اس کو ہم نے بھی پناہ دی۔ (یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ اسے قتل کرنے کے مجاز نہیں)۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2538]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2544] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 357] ، [مسلم 336] ، [أبوداؤد 2762] ، [ترمذي 1579] ، [نسائي 225] ، [ابن حبان 1188] ، [الموارد 631] ، [الحميدي 333]
وضاحت
(تشریح حدیث 2537)
اجارہ: امان دینے کو کہتے ہیں۔
سیدہ اُم ہانی رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چچا زاد بہن اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی سگی بہن تھیں۔
انہوں نے اپنے شوہر ہبیرہ ابن ابی وہب جو حالتِ کفر میں انتقال کر گئے تھے، ان کے کسی عزیز کو شوہر سے وفاداری کے تحت پناه دی تھی، لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کو قتل کر دینا چاہتے تھے کیونکہ وہ مشرک تھا، لیکن سیدہ اُم ہانی رضی اللہ عنہا نے اسے فتح مکہ کے بعد پناہ دیدی تھی، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی پناہ کا حکم دیا۔
اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کا ادنیٰ فرد، مرد ہو یا عورت، غیر مسلم کو پناہ دے سکتا ہے، اور سب کو یہ حکم ماننا ہوگا۔
الحكم: إسناده صحيح والحديث متفق عليه