بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جزیرۃ العرب سے مشرکین کے اخراج کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی سیر کے مسائل جزیرۃ العرب سے مشرکین کے اخراج کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2534 سنن دارمی
عَفَّانُ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْمُونٍ ، سَعْدُ بْنُ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، سَمُرَةَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْمُونٍ: رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنْ أَبِيهِ سَمُرَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ , قَالَ: كَانَ فِي آخِرِ مَا تَكَلَّمَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "أَخْرِجُوا يَهُودَ مِنَ الْحِجَازِ، وَأَهْلَ نَجْرَانَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو آخری بات کہی وہ یہ تھی کہ: یہود کو حجاز سے اور اہلِ نجران کو جزیرۂ عرب سے نکال دو۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2534]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2540] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبويعلی 872] ، [الحميدي 85] ، [مشكل الآثار للطحاوي 2760] ، [مجمع الزوائد 2091، وغيرهم]
وضاحت
(تشریح حدیث 2533)
یہود ایسی قوم ہے جس نے اپنی کتابوں میں تحریف کی، انبیاء کو قتل کیا، شریعتوں کا مذاق اڑایا، خیانت و بدعہدی کے مرتکب ہوئے۔
اس لئے اس قوم سے بچنے، دور رہنے، اور جزیرۃ العرب سے نکال دینے کا حکم دیا گیا۔
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں ان کے کرتوت کی نشاندہی کی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی حیاتِ مبارکہ میں انہیں جزیرۂ عرب سے نہ نکال سکے تھے، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں نکال دیا تھا۔
الحكم: إسناده صحيح