بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جہاد کے دوران ہاتھ نہ کاٹنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی سیر کے مسائل جہاد کے دوران ہاتھ نہ کاٹنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2528 سنن دارمی
بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ هُوَ: ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ ، شِيَيْمِ بْنِ بَيْتَانَ ، جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، ابْنَ أَرْطَاةَ
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ هُوَ: ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ شِيَيْمِ بْنِ بَيْتَانَ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، قَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ ابْنَ أَرْطَاةَ، يَقُولُ: قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "لا تُقْطَعُ الْأَيْدِي فِي الْغَزْوِ لَقَطَعْتُهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
جنادہ بن ابی امیہ نے کہا کہ اگر میں نے سیدنا بسر بن ارطاة رضی اللہ عنہ کو نہ سنا ہوتا تو میں ہاتھ کاٹ دیتا، وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، وہ فرماتے تھے: غزوے اور جہاد میں (چور کے) ہاتھ نہ کاٹے جائیں۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2528]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 2534] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4408] ، [ترمذي 1450] ، [نسائي 4994] ، [أحمد 181/4، وغيرهم]
وضاحت
(تشریح احادیث 2526 سے 2528)
مذکورہ بالا روایت کی اگر سند صحیح بھی ہو تو اس حدیث کا مطلب جمہور کے نزدیک یہ ہے کہ کوئی شخص مالِ غنیمت سے چوری کرے تو اس کے ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے، تاکہ مجاہدین میں بددلی نہ پھیلے، اور مجاہدین کی قلت نہ ہو جائے۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده ضعيف