بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مال غنیمت سے چوری کرنے والے کی سزا کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی سیر کے مسائل مال غنیمت سے چوری کرنے والے کی سزا کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2526 سنن دارمی
سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، صَالِحِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ وَجَدْتُمُوهُ غَلَّ، فَاضْرِبُوهُ وَأَحْرِقُوا مَتَاعَهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سالم بن عبداللہ نے اپنے باپ، انہوں نے ان کے دادا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی کو پاؤ کہ اس نے مالِ غنیمت میں سے چوری کی ہے تو اس کی ٹھکائی کرو اور اس کا سامان جلا دو۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2526]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: ] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے کیوں کہ اس کے راوی صالح بن محمد بن زائد ضعیف ہیں۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2713] ، [ترمذي 1461] ، [نسائي 4994] ، [أحمد 2/1] ، [ابن منصور 2729، وغيرهم]
وضاحت
(تشریح حدیث 2525)
جو شخص مالِ غنیمت سے کچھ چرائے اسے واپس کرنا ضروری ہے۔
اس حدیث میں مارنے اور جلانے کا ذکر ہے، لیکن ضعیف ہے، اس لئے چوری کا مال جمع کرا دینا واجب ہے، جلانا درست نہیں۔
ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے کہا: اگر یہ حدیث صحیح بھی مان لی جائے تب بھی منسوخ ماننی پڑے گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک تسمہ بھی واپس لے لیا تھا، جلایا نہیں تھا۔