بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حاملہ قیدی عورتوں سے وطی کی ممانعت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی سیر کے مسائل حاملہ قیدی عورتوں سے وطی کی ممانعت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2514 سنن دارمی
أَسَدُ بْنُ مُوسَى ، شُعْبَةُ ، يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ أَبِي عُمَرَ الشَّامِيِّ الْهَمْدَانِيِّ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
أَخْبَرَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ أَبِي عُمَرَ الشَّامِيِّ الْهَمْدَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً مُجِحَّةً يَعْنِي: حُبْلَى عَلَى بَابِ فُسْطَاطٍ، فَقَالَ:"لَعَلَّهُ قَدْ أَلَمَّ بِهَا؟". قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: "لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنَةً تَدْخُلُ مَعَهُ قَبْرَهُ، كَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ، وَكَيْفَ يَسْتَخْدِمُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک حاملہ عورت کو خیمے کے دروازے پر پڑے دیکھا تو فرمایا: شاید اس کے مالک نے اس سے جماع کیا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے چاہا اس پر ایسی لعنت کروں جو قبر تک اس کے ساتھ جائے، بھلا اس کا لڑکا کیوں کر اس کا وارث ہوگا جب کہ وہ اس کے لئے حلال ہی نہیں اور کس طرح وہ اس سے خدمت لے گا اور وہ اس کے لئے حلال ہی نہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2514]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2521] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1414] ، [أبوداؤد 2156] ، [الطيالسي 1172]
وضاحت
(تشریح حدیث 2513)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حاملہ سے وطی کرنے والے پر لعنت کا ارادہ کرنا شدید کراہت پر دلالت کرتا ہے، اور اس سے حاملہ سے صحبت و جماع کرنے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے، اسی طرح غزوۂ اوطاس کی لونڈیوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا۔
دیکھئے: [مسلم، كتاب النكاح، باب وطي الحامل و كتاب النكاح، باب وطي السبايا 2154] ۔
«كَيْفَ يُوَرِّثُهُ» کا مطلب یہ ہے کہ جب اس کا وہ بچہ ہے ہی نہیں تو وارث کیسے بنے گا، اور احتمال ہے کہ وہ لڑکا پہلے وطی کرنے والے کا ہو تو اس کو غلام بنانا حرام ہوگا۔
تفصیل مسلم شریف میں دیکھئے۔
الحكم: إسناده صحيح