بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
دشمن کی سرزمین پر مال غنیمت کی تقسیم کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی سیر کے مسائل دشمن کی سرزمین پر مال غنیمت کی تقسیم کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2504 سنن دارمی
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَاصِمٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: "قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ بِالْجِعِرَّانَةِ". قَالَ عَبْد اللَّهِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فِي الْإِسْنَادِ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابووائل رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حنین کے مالِ غنیمت کو جعرانہ میں تقسیم کیا۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: اس کی اسناد میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2504]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2511] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أحمد 427/1] ، [أبويعلی 4992] ، [ابن حبان 6576] ۔ مزید دیکھئے: [فتح الباري 521/6]
وضاحت
(تشریح حدیث 2503)
غزوۂ حنین طائف کی وادیوں میں تھا، اور جعرانہ طائف اور مکہ کے درمیان ایک مقام ہے، اس جگہ تقسیمِ غنائم سے یہ نکلا کہ دشمن کی سرزمین پر بھی غنائم کی تقسیم کی جاسکتی ہے، ضروری نہیں کہ اپنے مستقر پر پہنچ کر غنائم تقسیم کئے جائیں۔
الحكم: إسناده صحيح