بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
قیدیوں کا فدیہ لینے اور دینے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی سیر کے مسائل قیدیوں کا فدیہ لینے اور دینے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2502 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "فَادَى رَجُلًا بِرَجُلَيْنِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو دو آدمی کے بدلے فدیہ لے کر چھوڑ دیا (یعنی ایک کافر کو دو مسلمان قیدیوں کے عوض چھوڑ دیا)۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2502]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وأبو قلابة هو: عبد الله بن زيد وأبو المهلب هو: عمرو بن معاوية، [مكتبه الشامله نمبر: 2509] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن حبان 4391] ، [الحميدي 851] ۔ امام مسلم نے اپنی صحیح میں اس قیدی کا قصہ مفصل بیان کیا ہے۔ دیکھئے: [صحيح مسلم 1641]
وضاحت
(تشریح حدیث 2501)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسیرانِ جنگ کا تبادلہ درست ہے، اور جمہور علماء کی یہی رائے ہے، لیکن امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک تبادلہ درست نہیں، ان کی رائے میں قیدی کو مار ڈالنا یا غلام بنا لینا چاہیے۔
الحكم: إسناده صحيح وأبو قلابة هو: عبد الله بن زيد وأبو المهلب هو: عمرو بن معاوية