بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے قبضہ (ہتھے) کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی سیر کے مسائل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے قبضہ (ہتھے) کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2494 سنن دارمی
أَبُو النُّعْمَانِ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ ، هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ ، قَتَادَةُ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:"كَانَ قَبِيعَةُ سَيْفِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ". قَالَ عَبْد اللَّهِ: هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ خَالَفَهُ. قَالَ: قَتَادَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَزَعَمَ النَّاسُ أَنَّهُ هُوَ الْمَحْفُوظُ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تلوار کا قبضہ چاندی کا تھا۔
امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: ہشام الدستوائی نے اس کی مخالفت کی، قتادہ سے انہوں نے سعید بن ابی الحسن سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کیا ہے اور لوگوں نے سمجھ لیا کہ یہی محفوظ ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2494]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2501] »
اس روایت کی سند معلول ہے، لیکن دیگر متعدد طرق سے مروی ہے جو اس کو تقویت دیتے ہیں۔ ہشام الدستوائی نے قتادہ کے طریق سے سعید بن ابی الحسن سے مرسلاً روایت کی ہے اور امام ابوداؤد نے کہا: «قوي هذه الأحاديث حديث سعيد بن أبى الحسن» ۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2583] ، [ترمذي 1691] ، [نسائي 5389] ، [مشكل الآثار للطحاوي 166/2]
وضاحت
(تشریح حدیث 2493)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تلوار کو چاندی سے مزین کرنا درست ہے۔
الحكم: إسناده صحيح