أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ: "كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ، فَبَايَعْنَاهُ وَعُمَرُ آخِذٌ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَهِيَ: سَمُرَةٌ، وَقَالَ: بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرّ، وَلَمْ نُبَايِعْهُ عَلَى الْمَوْتِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: حدیبیہ کے موقع پر ہم ایک ہزار چار سو آدمی تھے۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیعت کی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہاتھ تھامے ہوئے درخت کے (سایہ) تلے تھے، وہ سمرہ تھا (جنگلی درخت جو ریگستان میں ہوتا ہے اور غالباً اس کو کیکر کا درخت کہتے ہیں) ہم نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے نہ بھاگنے کی بیعت کی ہے، مرنے کی بیعت نہیں کی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2491]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2498] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1856] ، [بخاري جزء منه 4154] ، [أبويعلی 1838] ، [ابن حبان 4875] ، [الحميدي 1312]
الحكم: إسناده صحيح